سکرین ٹائم اور بےچینی: تحقیقی شواہد کیا کہتے ہیں؟
ہر اضافی گھنٹے کی اسکرین استعمال سے بےچینی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق 40 سال سے کم عمر کے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں ←
پاکستان میں اسکرین ٹائم، اطلاعات کی تھکاوٹ، اور ڈجیٹل عادات کے بارے میں مقامی معلوماتی آرکائو۔
اسکرین ٹائم، خبروں کی بےچینی، اور ڈجیٹل عادات کے بارے میں تفصیلی مضامین
ہر اضافی گھنٹے کی اسکرین استعمال سے بےچینی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق 40 سال سے کم عمر کے افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں ←
38 فیصد بالغان اعتراف کرتے ہیں کہ سونے سے پہلے خبریں دیکھنا ان کی نیند کو خراب کرتا ہے۔ نوجوان زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں ←
پاکستان میں میڈیکل طلباء پر تحقیق سے پتا چلا کہ دو ہفتوں کے ڈجیٹل وقفے سے نیند کی کیفیت میں نمایاں بہتری آئی۔
مزید پڑھیں ←سمارٹ فونز سے نکلنے والی نیلی روشنی میلاٹونن ہارمون کو دباتی ہے جو نیند کے لیے ضروری ہے۔ جب جذباتی طور پر مشتعل خبروں کے ساتھ یہ روشنی مل جائے تو جسم کی جیولوجیکل گھڑی دن کی چوکناپن کی سطح پر رہتی ہے۔
حالیہ تحقیقات میں دو نئے مسائل کی شناخت ہوئی ہے: Continuous Partial Attention Disorder (CPAD) اور Digital Anxiety Disorder (DAD)۔ 85 فیصد سے زیادہ ماہرین نے ان مسائل کی تصدیق کی ہے۔
روزمرہ کی زندگی میں معلوماتی حفظ صحت کے لیے چند قابل عمل طریقے
رات 9 بجے کے بعد سوشل میڈیا اور خبروں کی اطلاعات بند کرنا نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
غیر ضروری ایپس کی اطلاعات بند کرنے سے دن بھر کی بےچینی اور توجہ کی تقسیم کم ہو سکتی ہے۔
فون کی بجائے کاغذی کتاب پڑھنا نیلی روشنی سے بچاتا ہے اور دماغ کو سکون کی طرف لے جاتا ہے۔
پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ سمارٹ فون کی زیادہ استعمال سے نیند آنے میں تاخیر، مجموعی نیند کا وقت کم ہونا، اور بےخوابی کی شکایات بڑھتی ہیں۔
خاص طور پر سوشل میڈیا اور گیمنگ کا سونے سے پہلے استعمال نیند کے خراب نتائج سے جڑا ہوا پایا گیا۔ اس کی اہم وجہ سکرینز سے نکلنے والی نیلی روشنی ہے جو میلاٹونن ہارمون کو دباتی ہے۔
اعلان: یہ ویب سائٹ صرف عام معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہاں موجود مواد کسی بھی طبی مشورے کا بدل نہیں ہے۔ کسی بھی صحت سے متعلق فیصلے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔